Thursday, 13 October 2011

gehra hai samandar


بے چین ہے بے تاب ہے گہرا ہے سمندر 
یعنی کہ میرے پیار کے جیسا ہے سمندر
کیا دکھ ہے کسی لہر کو چھو کر کبھی دیکھو 
تم نے تو فقط دور سے دیکھا ہے سمندر
کہنے کو بہت خشک اور ویران ہیں آنکھیں 
لیکن جو لگے ٹھیس تو بہتا ہے سمندر
کیا لکھوں میں پانی پے کہانی کے ہمیشہ 
ہر روز نیا رنگ بدلتا ہے سمندر
برسوں سے پریشان سی لہروں کو اٹھاے
پیغام یہ کسکا لئے پھرتا ہے سمندر
گم سم کبھی بے چین کبھی اپنی مگن میں 
لگتا ہے ہمیں آپ کے جیسا سمندر
انسان سے دکھ کہتا ہے لہروں کی زبانی 
فرصت یہاں کس کو کہاں رہتا ہے سمندر
اس کرب کا اندازہ بھلا کون کریگا 
ہر سمت ہے پانی مگر پیاسا ہے سمندر 
اک شہر جسے خود ہی بسایا تھا مگر اب
ارمان بہت دور سے تکتا ہے سمندر 

Hmmmm pagal :)


گھنٹوں اس سے 
پیار کی باتیں 
 کرتے کرتے
جب میں اس سے 
رخصت ہو کر واپس پلتا 
میرے پیچھے ہلکا سا وہ 
ہنس کر بولی 
ہُنہ!!!
پاگل :)

Wednesday, 12 October 2011

Aisa bhee hona hai


اک دیں ایسا بھی ہونا ہے 

جب مجکو بھولنا چاہوگے تو یاد میری دوہراوگے 
تم لاکھ بھلانہ چاہوگے پر مجھ کو بھول نہ پاؤگے 
اک دیں ایسا بھی ہونا ہے 
جب آئینے میں دیکھوگے تو عکس میرا ہے پاؤگے 
تم راہ ہماری دیکھوگے
پر ہم کو ڈھونڈ نہ پاؤگے 
اک دیں ایسا بھی ہونا ہے 
جب بھری بھری سی محفل میں 
تم خود کو تنہا پاؤگے 
لوگوں میں ، ہر چہرے میں ، تم مجھ کو ڈھونڈنا چاہوگے 
پر مجھکو ڈھونڈ نہ پاؤگے
تم یاد رکھو ہاں یاد رکھو اک دیں ایسا بھی ہونا ہے

koi bhee nahin apna


نہ دل نہ دریچہ نہ آنگن کی ہوا اپنی 
نہ یاد کے صحرا میں چلی باد سبا اپنی 
ہونٹوں پے کھلے پھول 
نہ آنکھوں میں سجے خواب
نہ شب کی ترکی ہی
نہ اجالے سحر کے 
مہتاب سجی رات ، وہ ہلتے هووے ہاتھ
  نہ ہی کھلتی هووے کلیاں 
ہونٹوں پے سجی مسکان 
کوئی بھی نہیں اپنا 
بن مول ملے وہ جو رفاقت نہیں اپنی 
اغراض بھری دنیا میں چاہت بھی نہیں اپنی 
یہ رشتے، یہ لہو اور یہ جذبے ہیں اکارت 
اس شہر میں خاموش محبّت کی پرکھ کس کو ہے 
تنہائی ہی برسوں سے میرے دل کی مکیں ہے 
طوفان میں جو گم ہیں تیری آنکھوں کے سمندر 
یہ ساتھ تیرا ، یاد تیری ، نام تیرا جاناں 
کوئی بھی نہیں اپنا 
کوئی بھی نہیں اپنا


asaddkar@gmail.com

www.thes3.org